رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام

سخن سردبیر

نویسنده

استاد گروه فقه تربیتی جامعه المصطفی العالمیه

چکیده

اپنی بات کے آغاز میں اپنے آقا (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے حضور، انقلاب کے عظیم الشان رہبر، عزیز حکیم خامنہ ای کی جانگداز شہادت کے موقع پر تسلیت پیش کرتا ہوں اور ان کی جناب سے عظیم ملت ایران بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور اسلام و انقلاب کے تمام خادمین، ایثارگران اور اسلامی تحریک کے شہداء بالخصوص حالیہ جنگ کے شہداء کے بازماندگان اور اپنے حقیر کے لیے دعائے خیر کی درخواست کرتا ہوں۔
میرے کلام کا دوسرا حصہ عظیم ملت ایران کے نام ہے۔ سب سے پہلے مجلس محترم خبرگان کے ووٹ کے بارے میں اپنی صورت حال مختصراً بیان کر دوں۔ یہ خادم، سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، آپ ہی کی طرح اور اسلامی جمہوریہ کے ٹیلی ویژن کے ذریعے مجلس محترم خبرگان کے ووٹ کے نتیجے سے باخبر ہوا۔ میرے لیے اس جگہ پر بیٹھنا جہاں دو عظیم الشان پیشوا، خمینی کبیر اور شہید خامنہ ای، جلوہ افروز رہے ہیں، ایک مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کرسی پر وہ شخص بیٹھا کرتا تھا جو 60 سال سے زیادہ عرصے تک اللہ کی راہ میں مجاہدت کرنے اور ہر قسم کی لذتوں اور آرام و آسائش سے گزرنے کے بعد، نہ صرف موجودہ عصر میں بلکہ اس ملک کے حکمرانوں کی پوری تاریخ میں ایک روشن گوہر اور ممتاز چہرہ بن گیا۔ اس کی زندگی اور اس کی موت کی نوعیت دونوں حق پر سہارے کی وجہ سے شان و عزت سے عبارت تھی۔

کلیدواژه‌ها