دکتری قرآن و حدیث،مجتنع امام خمینی رہ ،جامۃ المصطفی العالمیہ،پاکستان
چکیده
تربیت اولاد کے مؤثر عناصر اور ادوار اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کے تناظر میں"کے عنوان سے یہ تحقیقی مقالہ اولاد کی تربیت کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی عمل کو منظم انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس تحقیق کی بنیادی ضرورت اس امر سے پیدا ہوئی کہ موجودہ دور میں والدین و مربین اکثر تربیت کے بنیادی اصولوں اور عمر کے مختلف مراحل کے تقاضوں سے ناواقف ہیں، جس کے نتیجے میں تربیتی عمل غیر موثر یا یک طرفہ رہ جاتا ہے۔ تحقیق کا مقصد تربیت کے عوامل و مراحل کو منظم اور علمی بنیادوں پر پیش کرنا ہے تاکہ ایک جامع رہنمائی میسر آ سکے۔ تحقیق کا طریق کار نظریاتی اور تحلیلی ہے، جس میں اسلامی مصادر اور جدید سائنسی مصادر (نفسیات نشوونما، تعلیمی نفسیات) کا موازناتی تجزیہ کیا گیا ہے۔ تحقیق کے اہم نتائج میں تربیت پر اثر انداز پانچ اہم عوامل کی شناخت ، نیز تربیت کے چار بنیادی ادوار کی تفصیل شامل ہے که جن میں سے ہر دور کی نفسیاتی، جذباتی اور علمی ضروریات جداگانہ ہیں۔ تحقیق سے یہ اہم نکتہ بھی واضح ہوا کہ اسلامی تعلیمات (جیسے صالح شریک حیات کا انتخاب، والدین کی نمونہ سازی) جدید نفسیات کے سائنسی اصولوں سے حیرت انگیز طور پر ہم آہنگ ہیں.میڈیا اور ڈیجیٹل ماحول کے جدید چیلنجز کے پیش نظر تحقیق میں عملی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں، جن کا مرکزی نکتہ نگرانی، راہنمائی اور متبادل سرگرمیاں فراہم کرنا ہے۔ بالآخر، تحقیق اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اولاد کی تربیت کی کامیابی کے لیے اسلامی تعلیمات کی روحانی بنیادوں اور جدید سائنس کے تجرباتی اصولوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے، جس سے نہ صرف بہتر نسل کی تشکیل ممکن ہو گی بلکہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔