قرآن کریم کی نظر میں مطلوب گفتگو کا معیار

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسنده

دانشجو سطح چہار،مجتمع اموزش عالی ادبیات و فرهنگ شناسی، جامعه المصطفی العالمیه،پاکستان

چکیده

انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی اہم ترین صلاحیتوں میں سے ایک اظہارِ خیال (بیان) کی  صلاحیت ہے۔ قرآن مجید میں اس صلاحیت کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت قرار دیا گیا ہے، جس کے استعمال کے لیے واضح اصول و آداب بیان کیے گئے ہیں۔ زبان کا صحیح استعمال فرد کو کامیابی اور سعادت کی منزل تک پہنچا سکتا ہے جبکہ اس کا غلط استعمال تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ پیش نظر تحریر میں قرآن مجید میں مذکور مختلف اقسام کے اقوال کا تجزیہ کیا گیا ہے، جن میں قولِ معروف، قولِ سدید، قولِ بلیغ، قولِ کریم، قولِ میسور، قولِ لین، قولِ احسن، فصلِ خطاب اور سلام کے تصورات شامل ہیں۔ یہ تمام اصنافِ کلام مختلف مواقع، مخاطبین کی نفسیات اور مقاصد کے پیش نظر گفتگو کے درست اسلوب، لہجے اور حکمت کی وضاحت کرتی ہیں۔ مقالے میں ان اصناف کی شرعی و لسانی تشریحات پیش کرتے ہوئے عملی زندگی (خصوصاً خاندانی، دعوتی اور معاشرتی روابط) میں ان کے اطلاق کے تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق کامیاب اور مؤثر ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ گفتگو موقع کی مناسبت، نرمی، احترام، وضاحت، اثر آفرینی اور حکمت پر مبنی ہو، اور جہاں گفتگو بے سود ہو وہاں سلام کے ساتھ کنارہ کشی اختیار کرنا بہترین راہ ہے۔

کلیدواژه‌ها