مقالہ حاضر ’’آزادی و اخلاق میں باہمی رابطہ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں جو کچھ بھی لکھا گیا وہ اس اساسی اور بنیادی سوال ’’کیا آزادی اور اخلاق میں باہمی رابطہ پایا جاتا ہے؟‘‘ کا جواب ہے۔ آج کل انسانی زندگی سماج و معاشرہ کی شکل میں بسر ہورہی ہے، دنیا اور اس میں پائے جانے والے مکاتب فکر کے درمیان دو طرح کی آزادی کا مفہوم پایا جاتا ہے ایک مطلق آزادی جسے مغربی کلچر یا بے دینوں نے پیش کیا ہے وہ ایک ایسی زندگی ہے جو حیوانوں سے مشابہ اور سماج و معاشرہ میں تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہے، اور دوسرے قانون یا اخلاق کے سایہ میں آزادی ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے جس کا نتیجہ سماج و معاشرہ میں نشو نما اور امن و سلامتی ہے۔ اب جیسی زندگی ہوگی ویسا سماج و معاشرہ ہوگا۔ بنابریں، اسلامی اعتبار سے آزادی اور اخلاق میں ایک اٹوٹ رشتہ اور بہت گہرا رابطہ پایا جاتا ہے برخلاف مغربی کلچر کے، چونکہ مغربی یا بے دینداری کلچر اس نایاب جوہر سے خالی ہے جس کی وجہ سے ان کے یہاں آزادی اور اخلاق میں رابطہ نہیں پایا جاتا حالانکہ انسانی حقوق کے عالمی منشور وغیرہ بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ آزادی اور اخلاق میں ایک گہرا رابطہ پایا جاتا ہے۔ اسی بنا پر اس مقالہ کو تحلیلی۔توصیفی طریقہ سے تحریر کرنے کی سعادت حاصل کی گئی ہے جس میں سب سے پہلے آزادی اور اخلاق کے معانی کو بیان کیا گیا ہے اس کے بعد آزادی بدون اخلاق کی بات کی گئی ہے اور اس کی تیسری اور اساسی بحث، آزادی اخلاق کے سایہ میں پیش کرنے کے بعد آخر میں نتیجہ بھی بیان کیا گیا ہے۔