فقہی نقطہ نظر سے اولاد کی عاطفی تربیت

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

نویسنده

دکتری فقه تربیتی ،مجتمع آموزش عالی فقه،جامعه المصطفی العالمیه،پاکستان

چکیده

اسلامی تعلیم  و تربیت کے مختلف شعبے ہیں جن میں سے ایک اولاد کی عاطفی  تربیت ہے ۔ والدین جس طرح  اولاد کے عبادات، اخلاقیات اور اعتقادات کی تعلیم و  تربیت کا ذمہ دار ہیں  اسی طرح  ان کی عاطفی تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں ۔ عاطفی  تربیت سے مراد والدین یا مربی کا متربی میں موجود انسانی عواطف کو بروئے کار لانا اورانہیں کمال تک پہنچاننے کے لئے   مدد کرنا ،  اسی طرح متربی میں موجود غیر عاطفی رفتار کی اصلاح کرنا ہے۔مربی  کا  متربی کی مدد کرنے کا وہ سلسلہ کہ جس سے اس کے انسانی جذبات صحیح طور پر رشد و نمو کر سکیں اور اس کے غیر عاطفی اور غیر جذباتی اعمال کی اصلاح کی جا سکے۔عاطفی تربیت کا مقصد یہ ہے کہ متربی کے جذبات اور احساسات اس طرح پروان چڑھیں کہ وہ بخوبی اپنی ذات، خداوند متعال کی ذات، دوسرے انسانوں اور معاشرے کی جانب "محبت اور شفقت بھری توجہ" رکھ سکے۔  اگر بچوں سے اظہار محبت اور عاطفی تربیت  کے دیگر طریقوں کا براہ راست اثر، بچوں کی صحیح رہنمائی  پر پڑے اور وہ واجبات کی ادائیگی اور محرمات کو ترک کرنے لگے تو پھر  ان سے اظہار محبت کرنا اور عاطفی تربیت کرنے کے دوسرے طریقے اپنانا والدین پر واجب ہے۔ اس تحقیقی مقالہ کا مقصد شرعی نقطہ نظر سے اولاد کی عاطفی تربیت کے حوالے سے والدین کے فرائض کو واضح  طور پر بیان کرنا ہے۔ اس تحقیق میں  ہم  تجزیاتی اور اجتہادی طریقہ سے  آیات اور احادیث کی روشنی میں  اولاد کی عاطفی  تربیت کے حوالے سے والدین اورمربی  کے فرائض کو ثابت کیا ہے ۔ماں باپ  اورمربی  پر اپنے اولاد اورمتربی  کی عاطفی تربیت کرنا  واجب ہے۔

کلیدواژه‌ها