فقہ تربیتی کے نقطۂ نظر سے عدل کی ترغیب میں حکومت کی ذمہ داری

نوع مقاله : مقاله پژوهشی

چکیده

انسان قدیم زمانے سے عدل و انصاف کے موضوع، اس کے مفہوم اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت و افادیت کی طرف متوجہ رہا ہے۔ تعلیمی مطالعات میں ہر مفکر اپنے نظام اقدار کی بنیاد پر انسانی تربیت اور عادل انسان کی پرورش میں عدل و انصاف کے حوالے سے ایک مخصوص موقف رکھتا ہے۔ تربیتی مکاتبِ فکر عادل انسان کی تربیت کو اپنے تربیتی اہداف کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ عادل انسان کی تربیت میں حکومتوں کا کردار بھی بے مثال ہے۔ عدل و انصاف کے موضوع پر متعدد کتابیں اور تحقیقی آثار موجود ہیں، تاہم ان میں فقہی نقطۂ نظر سے بحث کا فقدان ہے۔ نیز، اب تک عدل کی ترغیب کے سلسلے میں حکومت کی ذمہ داری پر کوئی مستقل تحقیق سامنے نہیں آئی۔   یہ تحقیق تحلیل و اجتہاد کے طریقۂ کار کو اختیار کرتے ہوئے قرآنِ کریم، مصادرِ روایات اور فقہی قواعد کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ فقہِ تربیتی کے نقطۂ نظر سے عدل کی ترغیب کے سلسلے میں حکومت کی کیا ذمہ داری ہے؟تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ عدل اور عادل انسان کی تربیت کے سلسلے میں ترغیب و تحریک مستحب ہے۔ یہ حکم ترغیب و تحریک کے تمام مختلف طریقوں کو شامل ہے۔ تاہم، اگر ترغیب و تحریک کے بعض طریقے عادل انسان کی تربیت کے لیے مقدمۂ منحصرہ کی حیثیت رکھتے ہوں، تو ایسی صورت میں ان طریقوں کا استعمال واجب ہوگا۔
بعض دلائل میں عدل کی ترغیب کے سلسلے میں تشویق، انذار اور تبشیر کے طریقوں کو اختیار کیا گیا ہے اور خاص طور پر عادل انسان کی تربیت کے حوالے سے ان طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔ ان دلائل سے حکمِ استحباب اخذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ دلائل حکمرانوں اور عام لوگوں، دونوں کو شامل ہیں۔ اسی طرح بعض روایات کی بنیاد پر عادل انسان کی تربیت کے سلسلے میں امر و نہی کرنا لازم ہے۔

کلیدواژه‌ها