یہ تحقیقی مقالہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فکری و نظریاتی نظام سے ایک جامع اور اسٹریٹجک نمونۂ عمل (ماڈل) اخذ کرنے کے درپے ہے، تاکہ عصرحاضر میں ثقافتی یلغار اور جنگ نرم (Soft War) کے فکری چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ مقالے کا بنیادی مفروضہ اس امر پر استوار ہے کہ نہج البلاغہ محض ایک تاریخی یا اخلاقی دستاویز نہیں ہے، بلکہ دورِ حاضر کے پیچیدہ فکری اور تشخصی (ہویتی) حملوں کے سدِّ باب کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک چارٹر اور ہمہ جہت نقشۂ راہ (روڈ میپ) کی حیثیت رکھتی ہے۔اس تحقیق میں اولا ثقافت، تمدن، ثقافتی یلغار اور نرم جنگ جیسے بنیادی مفاہیم کی علمی تبیین و تشریح کی گئی ہے۔ بعد ازاں جنگِ نرم کے چار بنیادی عناصر—یعنی: ) غیر مرئی اور مخفی ماہیت، تدریجی اور دھیمی رفتار، فکری و ثقافتی تشخص کو ہدف بنانا، اور پُرکشش و فریب کار وسائل و ابزار سے استفادہ—کا باریک بینانہ تجزیہ کیا گیا ہے اور یہ حقیقت پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے کہ امام علی علیہ السلام نے چودہ سو سال قبل اپنے فرامین و خطبات میں انتہائی نفاست و بصیرت کے ساتھ ان پہلوؤں کی نشاندہی فرمائی تھی۔مقالے کا مرکزی حصہ علوی حکمتِ عملی کے دو سطحی تجزیے پر مشتمل ہے: دفاعی حکمتِ عملی: یعنی بصیرت، تقوی، سادگی (سادہ زیستی) اور سماجی ہم آہنگی و یکجہتی کے ذریعے اندرونی محاذ کو مستحکم و ناقابلِ تسخیر بنانا۔ -اقدامی و پیشگی (ہجومی) حکمتِ عملی: یعنی دشمن کی فکری بنیادوں پر کاری ضرب لگانے کے لیے جہاد تبیین، باطل کے فریب کار چہرے کی نقاب کشائی اور ایک برتر ثقافتی و تمدنی نمونہ پیش کرنا۔تحقیق کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ منہجِ علوی مسلم معاشرے کو انفعالی کیفیت اور مدافعت کی پوزیشن سے نکال کر ایک متحرک، بااثر اور تمدن ساز قوت میں تبدیل کر دیتا ہے، جو بالآخر اسلامی معاشروں کے ثقافتی استحکام و پائیداری کی ضامن بنتی ہے۔